نئی دہلی ، 6؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ 11 جنوری کو دہلی کی سرحدوں پر نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے مظاہروں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں پردائر درخواستوں پر سماعت کرے گیا۔
چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی سربراہی میں بنچ نے مشاہدہ کیا کہ کسانوں کے مظاہرے کے سلسلے میں زمینی سطح پر کوئی بہتری نہیں ہوئی ہے۔ مرکز نے عدالت عظمی کو بتایا تھا کہ اس معاملے پر حکومت اور کسانوں کے مابین مثبت بات چیت جاری ہے۔
اٹارنی جان کے کے وینوگوپال نے کہا کہ مستقبل قریب میں دونوں طرف سے اتفاق رائے کا اچھا امکان ہے اور نئے زرعی قوانین کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر مرکز کا ردعمل کسانوں اور حکومت کے مابین بات چیت میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔
سالسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ حکومت اور کسانوں کے مابین خوشگوار ماحول میں بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں پر 8 جنوری کو بحث نہیں ہونی چاہئے۔ بنچ نے کہاکہ ہم صورتحال کو سمجھتے ہیں اور بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اگر آپ جاری مذاکرات کے سلسلے میں تحریری طور پر اسے دیتے ہیں تو ہم اس کیس کی سماعت بروز پیر 11 جنوری تک ملتوی کرسکتے ہیں۔عدالت عظمی زرعی قوانین کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔